7 نومبر 2026 - 07:19
درجنوں شامی دہشت گرد یمن میں جنگ کے لئے بھیجے گئے ہیں، روئٹرز

خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ ہفتوں میں درجنوں شامی دہشت سعودی فوجیوں اور یمن میں سعودی اجرتی گماشتوں کی تربیت کے لئے سعودی عرب بھیجے گئے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے رپورٹ دی کہ سعودی حکومت یمنی فوج اور انصاراللہ کی افواج کے ساتھ جھڑپوں کی شدت کے موقع پر الجولانی حکومت سے وابستہ عناصر سے فوجی مشورہ اور تربیت حاصل کرنے اور اپنی افواج اور یمن میں اپنے اجرتی گماشتوں کی تقویت لئے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

روئٹرز کے مطابق، سعودی عرب کو گذشتہ ماہ جولائی سے یمن میں جھڑپوں کے دوبارہ آغاز کے ساتھ ساتھ، یمنی مسلح افواج کے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔ اسی تناظر میں، ریاض نے دفاعی اور جارحانہ حمایت حاصل کرنے کے لئے اپنے اتحادیوں کی طرف رجوع کیا ہے۔

روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ یہ افواج گذشتہ ہفتوں میں سعودی عرب بھیجی گئی ہیں، لیکن سابقہ رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ شامی دہشت گرد عناصر کئی مہینوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔

لبنانی اخبار "الاخبار" نے 15 ستمبر کو یمنی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ شامی دہشت گردوں نے گذشتہ مہینوں میں سعودی عرب کے علاقوں "الودیعہ" اور "شرورہ" میں سلفی گروہوں کی تربیت میں حصہ لیا۔

ان ذرائع نے مزید کہا کہ صنعاء کے پاس سیکیورٹی معلومات ہیں جو سعودی عرب کی سرزمین کے ذریعے سینکڑوں انتہا پسند عناصر کی شام سے یمن منتقلی کی تصدیق کرتی ہیں۔

جمعہ (6 نومبر 2026) کو ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے روئٹرز سے کہا کہ الجولانی حکومت اور ہیئت تحریر الشام سے وابستہ مشیر اور تربیتی گروہ، جن کے عناصر نے شام کی خانہ جنگی کے سالوں میں فوجی اور جنگی تجربہ حاصل کیا ہے، سعودی یونٹوں اور ریاض کی حمایت یافتہ یمنی ملیشیاؤں کی تربیت کے لئے سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں۔

اسی طرح دو شامی فوجی ذرائع نے بھی اعلان کیا کہ گذشتہ ہفتوں میں ابو محمد الجولانی حکومت سے وابستہ فوجی عناصر شام سے سعودی عرب منتقل کئے گئے ہیں۔

ان ذرائع کے مطابق، ان افراد کے مشن میں فوجی مشورہ اور تربیت فراہم کرنا شامل ہے، لیکن ان کی سرگرمیوں کا دائرہ ان مشنوں سے آگے بھی ہو سکتا ہے۔

ایک اعلیٰ سعودی عہدیدار نے بھی روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ شام کے ساتھ فوجی تجربات کا تبادلہ بنیادی طور پر اس ملک کی مسلح افواج کے ڈھانچے کی تعمیر نو کے مقصد سے کیا جا رہا ہے، لیکن شامی فوجی بھی اپنے جنگی تجربات سے سعودی عرب کی مدد کے لئے استفادہ کرتے ہیں۔

اس سعودی عہدیدار نے یہ بھی کہا: ہم شامی فوجیوں کے ساتھ مشترکہ تربیتی کورسز اور مشترکہ فوجی مشقوں کا اہتمام کرتے ہیں اور سیکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے لئے مزید پروگرام ایجنڈے پر ہیں۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ابو محمد الجولانی گذشتہ ہفتے بدھ کو دوسری بار ریاض پہنچا اور محمد بن سلمان سے ملاقات میں سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے۔ وہ گذشتہ ماہ بھی سعودی عرب کا دورہ کر چکا ہے۔

روئٹرز نے اس سے قبل اکتوبر میں رپورٹ دی تھی کہ الجولانی حکومت سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے اور شام سے آئے ہوئے [نام نہاد] فوجی یمنی افواج کے حملوں کے خلاف سعودی تنصیبات اور مقامات کے تحفظ کے لئے دفاعی مدد فراہم کرتے ہیں اور ساتھ ہی یمنی فوج اور انصاراللہ کے ساتھ جنگ میں ـ یمن میں ـ سعودی اجرت یافتہ ملیشیاؤں کی مدد کے لئے جارحانہ کارروائیوں کے فریم ورک میں دستے بھیجنا شامل ہے۔

اسی سلسلے میں، الجولانی حکومت کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے حال ہی میں بحرین میں ایک کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ مکہ دفاعی معاہدے میں شام کی شمولیت کے بارے میں مذاکرات جاری ہیں۔

نکتہ:

یمنی افواج کے سامنے آل سعود کی بے بسی کا حال یہ ہے کہ اب محمد بن سلمان یمن میں القاعدہ سے لے کر سلفی دہشت گردوں اور شام کے معلوم الحال دہشت گردوں کا سہارا لئے ہوئے ہے اور عجب یہ کہ یہ دہشت گرد اب پاکستان اور ترکیہ کی فوجوں کی صف میں یمن کے خلاف لڑیں گے، اگرچہ جس یمنی فوج نے امریکہ کو شکست دی ہے، وہ انہیں بھی بآسانی شکست دے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha